read

3۔ ولایت

848
۔زید بن
ارقم!
جب رسول اکرم” حجة الوداع“ سے واپس ہوتے ہوئے مقام غدیر خم پر پہنچے تو آپ نے زمین کو صاف کرنے کا حکم دیا اور پھر اعلان فرمایا کہ اللہ میرا مولا ہے اور میں ہر مومن کا ولی ہوں اور اس کے بعد علی (ع) کا ہاتھ پکڑ کر ارشاد فرمایا کہ جس کا میں ولی ہوں اس کا یہ بھی ولی ہے ، خدا یا اسے دوست رکھنا جو اس سے محبت کرے اور اس سے دشمنی کرنا جو اس سے دشمنی رکھے۔( مستدرک حاکم
3
ص
118
/
2576
،
2589
،
4578
،
4579
،
4610
،
4652
،
5477
،
5594
، سنن ترمذی
5
ص
633
/
3713
، سنن ابن ماجہ
1
ص
43
/
116
، خصائص نسائی
42
،
47
/
150
،
163
، مسند ابن حنبل
641
،
950
،
961
،
1310
،
23090
،
23168
،
23204
،
23633
،
25751
،
25752
، فضائل الصحابہ ابن حنبل
595
،
989
،
991
،
992
،
1007
،
1016
،
1017
،
1021
،
1022
،
1048
،
1168
،
1177
،
1206
، المعجم الکبیر
5
ص
166
/
4969
، تاریخ دمشق حالات امام علی (ع) ص ص
5
/
90
، البدایة والنہایة
5
ص
210
، ص
214
7
ص
335
، الغدیر
1
ص
14
۔
152
واضح رہے کہ صاحب الغدیر علامہ امینی طاب ثراہ نے اس مقام پر حدیث غدیر کے روایت کرنے والے
110
صحابہ کرام
48
تابعین اور
0
ی
36
علماء و حفاظ کے اسماء گرامی کا ذکر کیا ہے جنھوں نے دوسری صدی سے چودھویں تک اس حدیث شریف کو اپنی کتابوں میں جگہ دی ہے۔
849
۔ رسول اکرم ، جو شخص یہ چاہتاہے کہ میری طرح زندہ رہے اور میری ہی طرح دنیا سے جائے اور اس جنت میں داخل ہوجائے جس کا وعدہ میرے پروردگار نے کیا ہے، اس کا فرض ہے کہ علی (ع) اور ان کے وارث ائمہ ہدیٰ اور مصابیح الدجیٰ سے حبت کرے کہ یہ لوگ ہدایت سے نکال کر گمراہی
کی طرف ہرگز نہیں لے جاسکتے ہیں
۔ (امالی
شجری
1
ص
136
، کنز العمال
11
ص
611
/
32960
، مناقب ا بن شہر آشوب
1
ص
291
) ۔
850
۔ رسول
اکرم!
جو شخص میری جیسی حیات و موت کا خواہش مند ہے اور اس گلشن عدن میں داخلہ چاہتاہے جسے میرے پروردگار نے اپنے دست قدرت سے سجایاہے اس کا فرض ہے کے علی (ع) کو ولی تسلیم کرے اور ان کے دوستوں سے دوستی رکھے اور ان کے دشمنوں سے دشمنی رکھے اور اس کے بعد اوصیاء کے لئے سراپا تسلیم رہے کہ یہ سب میری عترت اور میرا گوشت اور خون ہیں، انھیں پروردگار نے میرا علم و فہم عنایت فرمایاہے اور میں اپنے پروردگار کی بارگاہ میں اس امت کی فریاد کروں گا جو ان کے فضل کی منکر اور ان سے میری رشتہ کی قطع کردینے والی ہے، خدا کی قسم یہ لوگ میرے فرزند کو قتل کریں گے اور انھیں میری شفاعت ہرگز نہیں مل سکتی ہے۔( کافی
1
ص
209
/
5
روایت ابان بن تعلب از اما م صادق (ع))۔
851
۔ رسول اکرم نے حضرت علی(ع) سے خطاب کرکے فرمایا کہ جو شخص پروردگار سے محفوظ و مامون، پاک و پاکیزہ اور ہول قیامت سے مطمئن ملاقات کرنا چاہتا ہے اس کا فرض ہے کہ تم سے محبت کرے اور تمھارے فرزند حسن (ع) و حسین (ع) ، علی (ع) بن الحسین (ع) ، محمد بن علی (ع) ، جعفر (ع) بن محمد(ع) ، موسی (ع) بن جعفر (ع) ، علی (ع) بن موسیٰ (ع) ، محمد (ع) بن علی (ع) ، علی(ع) ، حسن (ع) اور مہدی (ع) سے محبت کرے جو ان سب کا آخری ہوگا ( الغیبتہ طوسی (ر) ص
136
/
100
روایت عیسیٰ بن احمد بن احمد بن عیسیٰ بن المنصور العسکری (ع) ، مناقب ابن شہر آشوب
1
ص
293
، الصراط المستقیم
2
ص
151
۔
852
۔ ابن عباس نے رسول اکرم سے ائمہ کے بارے میں یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ ان کی ولایت میری ولایت ہے اور میری ولایت اللہ کی ولایت ہے، ان کی جنگ میری جنگ ہے اور میری جنگ خدا کی جنگ ہے، ان کی صلح میری صلح ہے اور میری صلح اللہ کی صلح ہے
۔ (کفایة
الاثر ص
18
) ۔
853
۔ رسول اکرم ۔ میری اور میرے اہلبیت (ع) کی ولایت جہنم سے امان کا وسیلہ ہے
۔ (امالی
صدوق (ع) ص
383
/
8
، بشارة المصطفیٰ ص
186
روایت ابن عباس (ع
)) ۔
854
۔ رسول اکرم (ع) ۔ ان اقوام کو کیا ہوگیا ہے کہ ان کے سامنے آل ابراہیم کا ذکر آتاہے تو خوش ہوجاتے ہیں اور آل محمد کا ذکر آتاہے تو ان کے دل بھڑک جاتے ہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے اگر کوئی بندہ روز قیامت ستر انبیاء کے اعمال کے برابر اعمال
لے کر آئے تو بھی خدا اس کے اعمال کو قبول نہیں کرے گا جب تک میری اورمیرے اہلبیت (ع) کی ولایت لے کر نہ آئے۔(امالی الطوسی (ر) ص
140
/
229
، بشارة المصطفیٰ ص
81
،
123
، کشف الغمہ
2
/
10
، امالی مفیدہ (ر)
115
/
8
855
۔ امام علی (ع)! اہلبیت (ع) اساس دین اور عماد یقین ہیں ، انھیں کی طرف غالی پلٹ کر آتاہے اور انھیں سے پیچھے رہنے والا ملحق ہوتاہے، ان کے لئے حق ولایت کے خصوصیات ہیں اور انھیں میں پیغمبراکرم کی وراثت و وصیت ہے۔( نہج البلاغہ خطبہ نمبر
2
856
۔ امام علی (ع
)!
لوگوں پر ہمارا حق ولایت بھی ہے اور حق اطاعت بھی اور ان کے لئے خدا کی طرف سے بہترین جزا بھی ہے۔( غرر الحکم
7628
857
۔ امام باقر (ع
)!
اسلام کی بنیاد پانچ ستونوں پر قائم ہے، قیام نماز، ادائے زکوة ، صوم رمضان، حج بیت اللہ اور ولایت اہلبیت (ع) ۔( امالی طوسی (ر) ص
124
/
192
، خصال
278
/
21
، امالی مفید
353
/
4
بشارة المصطفیٰ ص
69
روایت ابوحمزہ الثمالی ، کافی
2
ص
18
، تہذیب
4
ص
151
۔
858
۔ امام باقر (ع) پروردگار نے اہلبیت پیغمبر کو پاک و پاکیزہ قرار دیا ہے، ان کی محبت کا سوال کیا ہے اور ان میں پیغمبر کی ولایت کو جاری رکھاہے، انھیں امت میں پیغمبر کا محبوب اور وصی قرار دیاہے،
لوگوں!
میرے بیان سے عبرت حاصل کرو، جہاں پروردگار نے اپنی ولایت، اطاعت ، مودت اور اپنے احکام کے علم واستنباط کو رکھاہے، اسے قبول کرلو اور اسی سے وابستہ رہوتاکہ نجات حاصل کرلو اور یہ روز قیامت تمھارے لئے حجت کا کام دیں، اور یاد رکھو کہ خدا تک کوئی ولایت ان کے بغیر نہیں پہنچ سکتی ہے اور جو ان سے وابستہ رہے گا پروردگار کا فرض ہے کہ اس کا احترام کرے اور اس پر عذاب نہ کرے اور جو اس کے بغیر وارد ہوگا خدا پر لازم ہوگا کہ اسے ذلیل کرے اور مبتلائے عذاب کردے (کافی
8
ص
120
/
92
روایت ابوحمزہ)۔
859
۔
ابوحمزہ!
مجھ سے امام باقر (ع) نے فرمایا کہ حق کی عبادت وہی کرسکتاہے جو اس کی معرفت رکھتاہو ورنہ معرفت کے بغیر عبادت گمراہوں کی جیسی عبادت ہوگی میں نے عرض کی حضور معرفت خدا کا مقصد کیا ہے! فرمایا خدا اور اس کے رسول کی تصدیق اور علی (ع) کی محبت اور اقتدا اور ائمہ ہدی کی اطاعت اور ان کے دشمنوں سے برائت، یہ تمام باتیں جمع ہوجائیں تو معرفت خدا کا حق ادا ہوتاہے۔( کاف
1
ص
180
/
1
، تفسیر عیاشی
2
ص
116
/
155
860
۔ امام باقر (ع
)!
جو شخص آل محمد کی ولایت میں داخل ہوگیا گویا جنت میں داخل ہوگیا اور جو ان کے دشمن کی ولایت میں داخل ہوگیا گویا جہنم میں داخل ہوگیا (تفسیر عیاشی
2
ص
160
/
66
861
۔ محمد بن علی الحلبی نے امام صادق (ع)
سے”
رب اغفرلی ولوالدی ومن دخل بیتی آمنا
“کی
تفسیر میں نقل کیا ہے کہ اس گھر سے مراد ولایت ہے کہ جو اس میں داخل ہوگیا گویا انبیاء کے گھر میں داخل ہوگیا ، اور آیت تطہیر سے مراد بھی ائمہ طاہرین اور ان کی ولایت ہے کہ اس میں داخل ہونے والا گویا پیغمبر کے گھر میں داخل ہوگیا
۔ (کافی
1
ص
423
/
54
) ۔
862
۔امام صادق (ع)! پروردگار نے ہماری ولایت کو قرآن کا مرکز اور تمام کتب سماویہ کا محور قرار دیاہے جس پر تمام محکمات گردش کرتے ہیں اور تمام کتب نے اسی کا اراشہ دیاہے اور اسی سے ایمان
واضح ہوتاہے، رسول اکرم نے قرآن اور آل محمد دونوں کی اقتدا کا حکم دیا تھا جب آخری خطبہ میں ارشاد فرمایا تھا کہ میں تم میں ثقلین کو چھوڑے جاتاہوں جن میں ثقل اکبر کتاب خدا ہے اور ثقل اصغر میری عترت اور میرے اہلبیت (ع) ہیں ، دیکھو ان دونوں کے ذیل میں میری حفاظت کرنا کہ جب تک ان سے متمسک رہوگے گمراہ نہیں ہوسکتے ہو-( تفسیر عیاشی روایت مسعدہ بن صدقہ)۔
863
۔ امام کاظم (ع)! جو ہماری ولایت کی طرف قدم آگے بڑھائے گا وہ جہنم سے دور ہوجائے گا اور جو اس سے دور ہوجائے گا وہ جہنم کی طرف بڑھ جائیگا۔ ( کافی
1
ص
434
/
91
روایت محمد بن الفضیل ، مجمع البیان
10
/
591
864
۔ عبدالسلام بن صالح
ہروی!
میں امام رضا (ع) کے ہمراہ تھا جب آپ نیشاپور میں سواری پر سوار وارد ہوئے اور تمام علماء نیشاپور آپ کی زیارت کیلئے جمع ہوگئے اور لجام پکڑ کر سواری کو روک لیا اور گذارش کی کہ فرزند رسول ! آپ کو آپ کے آباء طاہرین کا واسطہ ، ان کی کوئی حدیث بیان فرمائیں۔
آپ نے محمل سے سر نکالا اور فرمایا مجھ سے میرے پدر بزرگوار موسیٰ (ع) بن جعفر (ع) نے ، اپنے والد جعفر (ع) بن محمد (ع) ان کے والد محمد (ع) بن علی (ع) ان کے والد علی (ع) بن الحسین (ع) ان کے والد حسین (ع) سردار جوانان اہل جنت ، ان کے والد امیر المومنین (ع) کے حوالہ سے رسول اکرم کا یہ ارشاد نقل فرمایاہے کہ مجھے خدائے قدوس جل
جلالہ کی طرف سے جبریل نے خبردی ہے کہ ” میں خدائے وحدہ لا شریک ہوں، میرے بندو! میری عبادت کرو اور جو شخص بھی مجھ سے لاالہ الا اللہ کے اخلاص کے ساتھ ملاقات کرے گا وہ میرے قلعہ میں داخل ہوجائے گا اور جو میرے قلعہ میں داخل ہوجائیگا وہ میرے عذاب سے محفوظ ہوجائے گا۔
لوگوں نے عرض کی یابن رسول اللہ ! یہ لا الہ الا اللہ کا اخلاص کیاہے؟ فرمایا خدا و رسول کی اطاعت اور اہلبیت (ع) کی ولایت ، امالی الطوسی (ر) ص
589
/
1220
، تنبیہ الخواطر
2
ص
75
روایت ابوالصلت عبدالسلام )۔
865
۔ امام رضا (ع
)!
دین کا کمال ہم اہلبیت (ع) کی ولایت اور ہمارے دشنوں سے برائت ہے۔( مستطرفات السرائر
149
/
3
886
۔ امام ہادی (ع
)!
( زیارت جامعہ ) اے اہلبیت (ع) زمین تمھارے نور سے روشن ہوئی ہے اور کامیاب لو گ تمھاری ولایت کے طفیل کا میاب ہوئے ہیں ، تمھارے ہی ذریعہ رضاء الہی کا راستہ طے ہوتاہے اور تمھاری ولایت کے منکر ہی کے لئے رحمان کا غضب ہے۔( تہذیب
6
ص
100
/
177