read

7۔ خمس

” یاد رکھو کہ تم نے جو بھی فائدہ حاصل کیا ہے اس کا پانچواں حصّہ اللہ ، رسول ، قرابتداران رسول ، ایتام ، مساکین اور مسافران غربت زدہ کے لئے ہے“۔( انفال ص
41
891
۔ ابن
الدیلمی!
امام زین العابدین (ع) نے ایک مرد شامی سے فرمایا کہ کیا تو نے سورہٴ انفال کی یہ آیت پڑھی ہے؟ اس نے کہا یقینا پڑھی ہے مگر کیا یہ قرابتدار آپ ہی ہیں ؟ فرمایا بیشک ۔( تفسیر طبری
6
/
10
/
5
892
۔ منہال بن
عمرو!
میں نے عبداللہ بن محمد بن علی اور علی (ع) بن الحسین (ع) سے خمس کے بارے میں دریافت کیا تو فرمایا کہ یہ ہمارا حق ہے تو میں نے علی (ع) سے کہا کہ پروردگار تو ایتام و مساکین اور مسافروں کی بات
کرتاہے … فرمایا ا س سے مراد ہمارے ہی ایتام و مساکین ہیں ۔( تفسیر طبری
5
۔
10
/
8
893
۔ امام باقر (ع) ، آیت خمس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ذوی القربیٰ سے مراد قرابتداران رسول ہیں اور خمس اللہ ، رسول اور ہم اہلبیت (ع) کے لئے ہے، (کافی
1
ص
529
/
2
روایت محمد بن
مسلم) ۔
894
۔ امام کاظم (ع
)!
پروردگار نے یہ خمس صرف اولاد رسول کے ایتام و مساکین کے لئے رکھاہے نہ کہ عام ایتام و مساکین کے لئے اور یہ صدقات کے بدلے میں ہے تا کہ انھیں قرابت رسول اور کرامت الہی کی بنیاد پر لوگوں کے ہاتھوں کے میل سے پاک رکھے اور انھیں یہ حق اس لئے عنایت فرمایاہے کہ اس طرح انھیں دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے اور ذلت و رسوائی کے مقامات سے لوگ رکھے۔ (کافی
1
ص
540
/
4
روایت حماد بن عیسیٰ )۔