read

فصل دوم: غالیوں سے اہلبیت (ع) کی برأت

1242
۔ امام علی (ع)! خدایا میں غالیوں سے بری اوربیزار ہوں جس طرح کہ عیسیٰ (ع) بن مریم نصاریٰ سے بیزار تھے۔
خدایا انھیں بے سہارا کردے اور ان میں سے کسی ایک کی بھی مدد نہ کرنا (امالی طوسی (ر)
650
/
1350
روایت اصبغ بن نباتہ، مناقب ابن شہر آشوب ! ص
263
1243
۔ امام علی (ع
) ۔
خبردار ہمارے بارے میں بندگی کی حد سے تجاوز نہ کرنا، اس کے بعد ہمارے بارے میں جو چاہو کہہ سکتے ہو کہ تم ہماری حد تک نہیں پہنچ سکتے ہو اور ہوشیار رہو کہ ہمارے بارے میں اس طرح غلو نہ کرنا جس طرح نصاریٰ نے غلو کیا کہ میں غلو کرنے والوں سے بری اور بیزار ہوں
۔ (
احتجاج
2
ص
453
/
314
، تفسیر عسکری
50
/
24
) ۔
1244
۔ زین العابدین (ع)! یہودیوں نے عزیر سے محبت کی اور جو چاہا کہہ دیا تو نہ ان کا عزیز سے کوئی تعلق رہا اور نہ عزیر کا ان سے کوئی تعلق رہا، یہی حال محبت عیسیٰ میں نصاریٰ کا ہوا ، ہم بھی اسی راستہ پر چل رہے ہیں، ہمارے چاہنے والوں میں بھی ایک قوم پیدا ہوگی جو ہمارے بارے میں یہودیوں اور عیسائیوں جیسی بات کہے
گی تو نہ ان کا ہم سے کوئی تعلق ہوگا اور نہ ہمارا ان سے کوئی تعلق ہوگا ۔( رجال کشی (ر)
1
ص
336
/
191
روایت ابوخالد کابلی)۔
1245
۔
الہروی!
میں نے امام (ع) رضا سے عرض کیا کہ فرزند رسول ! یہ آخر لوگ آپ کی طرف سے کیا نقل کررہے ہیں؟
فرمایا کیا کہہ رہے ہیں؟
عرض کی کہ لوگ کہہ رہے ہیں آپ حضرات لوگوں کو اپنا بندہ تصور کررہے ہیں ! آپ نے فرمایا کہ خدایا، اے آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے اور حاضر و غائب کے جاننے والے ! تو گواہ ہے کہ میں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی اور نہ میرے آباء و اجداد نے کہی ہے ، تجھے معلوم ہے کہ اس امت کے مظالم ہم پر کس قدر زیادہ ہیں یہ ظلم بھی انھیں میں سے ایک ہے۔
اس کے بعد میری طرف رخ کرکے فرمایا، عبدلاسلام ! اگر سارے بندے ہمارے ہی بندے اور غلام ہیں تو ہم انھیں کس کے ہاتھ فروخت کریں گے ؟ میں نے عرض کیا کہ آپ نے سچ فرمایا۔
اس کے بعد فرمایا کہ خدا نے جو ہمیں حق ولایت دیاہے کیا تم اس کے منکر ہو؟
میں نے عرض کیا کہ معاذ اللہ ۔ میں یقیناً آپ کی ولایت کا اقرار کرنے والاہوں۔( عیون اخبار الرضا (ع)
2
ص
184
/
6
گویا ظالموں نے اس حق ولایت الہیہ کی غلط توجیہہ کرکے اس کا مطلب یہ نکال لیا اور اسے اہلبیت (ع) کو بدنام کرنے کا ذریعہ قرار دیا ہے ۔ جوادی
1246
۔ الحسن بن
الجہم!
میں ایک دن مامون کے دربار میں حاضر ہوا تو حضرت علی بن موسی الرضا (ع) بھی موجود تھے اور بہت سے فقہاء ور علماء علم کلام بھی موجود تھے، ان میں سے بعض افراد نے مختلف سوالات کئے اور مامون نے کہا کہ یا اباالحسن ! مجھے یہ خبر ملی ہے کہ ایک قوم آپ کے بارے میں غلو کرتی ہے اور حد سے آگے نکل جاتی ہے۔
آپ نے فرمایا کہ میرے والد بزرگوار حضرت موسیٰ (ع) بن جعفر (ع) نے اپنے والد جعفر (ع) بن محمد (ع) سے اور انھوں نے اپنے والد محمد (ع) بن علی (ع)سے اور انھوں نے اپنے والد علی (ع) بن الحسین (ع) سے اور انھوں نے اپنے والد
حسین بن علی (ع) سے اور انھوں نے اپنے والد علی (ع) بن ابی طالب (ع) سے رسول اکرم کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ خبردار مجھے میرے حق سے اونچا نہ کرنا کہ پروردگار نے مجھے نبی بنانے سے پہلے بندہ بنایاہے اور اس کا ارشاد ہے ” کسی بشر کی یہ مجال نہیں ہے کہ خدا اسے کتاب و حکمت و نبوت عطا کرے اور وہ بندوں سے یہ کہہ دے کہ خدا کو چھوڑ کر میری بندگی کرو، ان سب کا یپغام یہ ہوتاہے کہ اللہ والے نبو کہ تم کتاب کی تعلیم دیتے ہو اور اسے پڑھتے ہو اور وہ یہ حکم بھی نہیں دے سکتاہے کہ ملائکہ یا انبیاء کو ارباب قرار دیدو، کیا وہ مسلمانوں کو کفر کا حکم دے سکتاہے۔( آل عمران آیت
79
،
80
اور حضرت علی (ع) نے فرمایاہے کہ میرے بارے میں دو طرح کے لوگ ہلاک ہوجائیں گے اور اس میں میرا کوئی قصور نہ ہوگا، حد سے آگے نکل جانے والا دوست اور حد سے گرا دینے والا دشمن اور میں خدا کی بارگاہ میں غلو کرنے والوں سے ویسے ہی برأت کرتاہوں جس طرح عیسٰی نے نصاریٰ سے برائت کی تھی۔
جب پروردگار نے فرمایا کہ ” عیسیٰ (ع)! کیا تم نے لوگوں سے یہ کہہ دیاہے کہ خدا کو چھوڑ کر مجھے اور میری ماں کو خدا مان لو اور انھوں نے عرض کی کہ خدایا تو خدائے بے نیاز ہے اور میرے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ میں کوئی خلاف حق بات کہوں، اگر میں نے ایسا کہا ہے تو تجھے خود ہی معلوم ہے کہ تو میرے دل کے راز بھی جانتاہے اور میں تیرے علم کو نہیں جانتاہوں، تو تمام غیب کا جاننے والا ہے، میں نے ان سے وہی کہا ہے جس کا تو نے حکم دیا ہے کہ اللہ کی عبادت کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمھارا بھی رب ہے اور میں ان کا نگراں تھا جب تک ان کے درمیان رہا، اس کے بعد جب تو نے میری مدت عمل پوری کردی تو اب تو ان کا نگراں ہے اور ہر شے کا شاہد اور نگراں ہے“۔ (مائدہ نمبر
116
،
117
اور پھر مالک نے خود اعلان کیاہے کہ مسیح بن مریم صرف ایک رسول ہیں جن سے پہلے بہت سے رسول گذر چکے ہیں اور ان کی ماں صدیقہ ہیں اور یہ دونوں کھانا کھایا کرتے تھے۔( مائدہ نمبر
75
” مسیح بندہ خدا ہونے سے انکار نہیں کرسکتے ہیں اور نہ ملائکہ مقربین اس بات کا انکار کرسکتے ہیں۔( نساء
172
لہذا جو بھی انبیاء کے بارے میں ربوبیت کا ادعا کرے گا یا ائمہ کو رب یا نبی قرار دے گا یا غیر امام کو
امام قرار دے گا ہم اس سے بری اور بیزار رہیں گے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔(عیون اخبار الرضا (ع)
2
ص
200
/
1
1247
۔ امام رضا (ع) مقام دعا
میں!
خدایا میں ہر طاقت و قوت کے ادعاء سے بری ہوں اور طاقت و قوت تیرے علاوہ کسی کے پاس نہیں ہے میں ان تمام لوگوں سے بھی بری ہوں جو ہمارے حق سے زیادہ دعویٰ کرتے ہیں اور ان سے بھی بری ہوں جو وہ کہتے ہیں جو ہم نے اپنے بارے میں نہیں کیاہے۔
خدایا خلق و امر تیرے لئے ہے، ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔
خدایا! تو ہمارا بھی خالق ہے اور ہمارے آباء و اجداد کا بھی خالق ہے۔
خدایا ربوبیت کے لئے تیرے علاوہ کوئی سزاوار نہیں ہے اور الوہیت تیرے علاوہ کسی کے لئے سزاوار نہیں ہے۔
خدایا ان نصاریٰ پر لعنت فرما جنھوں نے تیری عظمت کو گھٹا دیا اور ایسے ہی تمام عقیدہ والوں پر لعنت فرما۔
خدایا ہم تیرے بندے اورتیرے بندوں کی اولاد ہیں، تیرے بغیر اپنے واسطے نفع، نقصان، موت و حیات اور حشر و نشر کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتے ہیں ۔
خدایا! جس نے یہ خیال کیا کہ ہم ارباب ہیں ہم ان سے بیزار ہیں اور جس نے یہ کہا کہ تخلیق ہمارے ہاتھ میں ہے یا رزق کی ذمہ داری ہمارے اوپر ہے ہم اس سے بھی بیزار ہیں جس طرح عیسیٰ (ع) نصاریٰ سے بیزار تھے۔
خدایا ہم نے انھیں ان خیالات کی دعوت نہیں دی ہے لہذا ان کے مہملات کا ہم سے مواخذہ نہ کرنا اور ہمیں معاف کردینا ۔
خدایا زمین پر ان کافروں کی آبادیوں کو باقی نہ رکھنا کہ اگر یہ رہ گئے تو تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور ان کی اولاد بھی فاجر اور کافر ہوگی۔( الاعتقادات ، صدوق (ر) ص
99