بعض اقوام ثنویت یا تثلیت یا ایک دوسرے سے جدا کئی قدیم اوزاری مبداؤں کی قائل رہی ہیں اور کائنات کو چند محوروں اور کئی بنیادوں کی حامل سمجھتی رہی ہیں‘ اس قسم کے افکار کا منشاء کیا تھا‘ کیا ان میں سے ہر فکر اپنے دور کے عوام کی اجتماعی صورت حال کی آئینہ دار رہی ہے؟
اردو
شرک کے مراتب اور درجات
جس طرح توحید کے مراتب اور درجات ہیں‘ اسی طرح شرک کے بھی اپنے مقام پر کچھ مراتب ہیں اورتعرف الاشیاء باضدادھا(اشیاء اپنی اضداد سے پہچانی جاتی ہیں) کی رو سے مراتب شرک کے ساتھ مراتب توحید کا موازنہ کرنے سے توحید کو بھی بہتر طور پر پہچانا جا سکتا ہے اور شرک کو بھی۔
تاریخ بھی یہی بتاتی ہے کہ ابتدائے تاریخ سے انبیاء الٰہی جس توحید کی دعوت دیتے چلے آئے ہیں اس کے مقابلے میں طرح طرح کے شرک بھی موجود رہے ہیں۔
اردو
(ج) عینیت (Realism)
اس نظریے کے مطابق جو چیز انسان کو انفرادی اور اجتماعی اعتبار سے تقسیم کرتی ہے اور انسان کو جدا جدا کرنے کا بنیادی عامل ہے وہ اشیاء کے ساتھ انسان کا تعلق ہے۔ انسان کی اسارت و مصیبت اس کے مملوک ہونے کا نتیجہ ہے نہ کہ اس کی ملکیت کا۔ اسی لئے یہ نظریہ‘ فکری انقلاب‘ ایمان‘ نظریہ حیات اور روحانی آزادی کے بنیادی کردار کو تعلیم و تربیت کا عامل قرار دیتا ہے‘ لیکن اس نظریے کی رو سے انسان جس طرح محض مادہ نہیں ہے‘ محض روح بھی نہیں ہے‘ معاش اور معاد ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ ہیں۔ جسم و روح دونوں ایک دوسرے پر اثرانداز ہوتے ہیں- جہاں توحید در عبادت اور حق پرستی کے زیر سایہ روحانی انتشار و افتر
اردو
(ب) تصوریت (Idealism)
اس نظریے کا تعلق انسان کی روح و باطن اور نفس کے ساتھ اس کے رابطے سے ہے‘ اور اسی کو بنیاد اور اساس قرار دیتا ہے۔ اس نظریے کے تحت اگرچہ تعلق اور رابطہ وحدت کی راہ میں رکاوٹ کثرت کا موجب اور اجتماع کو نابود کر دیتا ہے۔ انسان کو نفسیاتی و روحانی طور پر تباہ کر دیتا ہے اور معاشرے کو مختلف گروہوں میں بانٹ دیتا ہے لیکن ہمیشہ جس سے تعلق پیدا کیا جاتا ہے اور رشتہ جوڑا جاتا ہے وہی تعلق پیدا کرنے والے کو کئی حصوں میں تقسیم کر دیتا ہے نہ کہ تعلق پیدا کرنے والا اپنے متعلق کی وحدت کو منقسم کرتا ہے۔ انسان کے ساتھ اشیاء کا تعلق (مثلاً مال و دولت‘ عورت اور مقام و منصب وغیرہ) روح انسانی اور انس
اردو
(الف) مادیت (Materialism)
اس نظریے کا کہ جو صرف مادے کے بارے میں سوچتا اور روح کے لئے کسی قسم کی بنیادی حیثیت کا قائل نہیں ہے۔ مدعا یہ ہے کہ جو چیز ایک انسان کو روحانی اعتبار سے اور انسانی معاشرے کو اجتماعی لحاظ سے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی ہے اور غیر موزوں جہات میں تبدیل کر دیتی ہے‘ وہ انسان (مالکیت) کے ساتھ اشیاء کا خاص رشتہ ہے۔ یہ اشیاء ہی ہیں جو انسان کے ساتھ اپنے خاص تعلق کی بناء پر‘ اسے انفرادی و روحانی لحاظ سے اور اجتماعی اعتبار سے منتشر کر دیتی ہیں۔ انسان ایک مدنی الطبع وجود ہے۔ ابتدائے تاریخ سے ہی انسان اجتماعی صورت میں زندگی گزارتا رہا ہے۔ کوئی ذاتی انا موجود نہیں تھی‘ یعنی اسے اپنی انا کا احساس نہیں
اردو
انسان اور توحید تک رسائی
ایک روحانی نظام اور ایک ارتقائی اور انسانی جہت میں انسان کو حقیقت وجودی کا وحدانیت تک پہنچنا اسی طرح ارتقاء و تکامل سے ہم آہنگ ایک اجتماعی نظام میں انسانی معاشرہ کا وحدت و یگانگت تک پہنچنا اور اس کے مقابلے میں انسان کی انفرادی شخصیت کا مختلف محوروں میں بٹ جانا اور غیر موزوں شعبوں میں اس کی حقیقت وجودی کا ٹکڑے ٹکڑے ہو جانا نیز انسانی معاشرے کا متضاد‘ متناقض اور غیر موزوں اناؤں‘ گروہوں اور طبقوں میں بٹ جانے کا تعلق ایسے مسائل سے ہے جنہوں نے ہمیشہ فکر بشری کو اپنی جانب متوجہ کئے رکھا ہے۔ انسان کی شخصیت کی وحدت و یگانگت یعنی توحید تک رسائی کے لئے کیا کرنا چاہیے؟
اردو
۴۔ توحید در عبادت
مذکورہ بالا تینوں مراتب کا تعلق توحید نظری اور ایک طرح کی معرفت سے ہے‘ لیکن توحید در عبادت‘ توحید عملی اور ”موجود ہونے“ اور ”واقع ہونے“ کی نوع سے ہے۔ توحید کے گذشتہ مراتب حقیقی تفکر و تعقل سے متعلق ہیں جبکہ توحید کا ہر مرحلہ حقیقی معنی میں ”ہونے“ اور ”ہو چکنے“ سے مربوط ہے۔ توحید نظری کمال کے بارے میں بصیرت ہے اور توحید عملی کمال تک پہنچنے کے لئے حرکت کرنے کا نام ہے۔ توحید نظری‘ وحدانیت خدا تک پہنچ جانے کا نام ہے جب کہ توحید عملی انسان کا ممتاز ہو جانا ہے توحید نظری ”دیکھنا“ ہے جب کہ توحید عملی ”راستے پر چلنا“ ہے۔
اردو
۳۔ توحید افعالی
توحیدا فعالی سے مراد اس چیز کی معرفت اور ادراک ہے کہ کائنات اپنے تمام تر نظاموں‘ روایات‘ عقل و اسباب اور معلومات و مسببات کے باوجود اسی کا فعل اور اسی کے ارادے کا نتیجہ ہے جس طرح موجودات عالم اپنی ذات میں مستقل نہیں ہیں اور سب اسی کے ذریعے قائم اور اسی سے وابستہ ہیں اور وہ قرآن کی اصطلاح میں پوری کائنات کے لئے ”قیوم“ ہے اسی طرح تاثیر اور علت کے اعتبار سے بھی مستقل نہیں ہے لہٰذا خداوند تعالیٰ کا جس طرح اپنی ذات کے لحاظ سے کوئی شریک نہیں ہے اسی طرح اپنی فاعلیت کے اعتبار سے بھی شریک نہیں ہے۔ ہر فاعل اور سبب کی حقیقت تاثیر اور فاعلیت نیز اس کا وجود اسی سے ہے اور اسی پر قائم ہے۔ ہ
اردو
۲۔ توحید صفاتی
توحید صفاتی سے مراد ذات حق تعالیٰ کی صفات کے ساتھ عینی وحدانیت اور ان صفات کی ایک دوسرے سے یگانگت کی معرفت و ادراک ہے۔ توحید ذاتی‘ ثانی اور مثل و نظیر کی نفی کرنا ہے جبکہ توحید صفاتی خود ذات سے ہر قسم کی ترکیب کی نفی کرنا ہے اگرچہ ذات خداوند تعالیٰ اوصاف کمالیہ جمال و جلال سے متصف ہے لیکن مختلف عینی جہات کی حامل نہیں ہے ذات کا صفات کے ساتھ اختلاف اور صفات کا ایک دوسرے کے ساتھ اختلاف کسی وجود کے محدود ہونے کا لازمہ ہے‘ لیکن کسی اور لامتناہی وجود کے لئے کوئی دوسرا قابل تصور نہیں ہے۔ اسی طرح ذات و صفات کے اختلاف اور کثرت و ترکیب کا بھی کوئی تصور نہیں‘ توحید ذاتی کی مانند توحید صف
اردو
۱۔ توحید ذاتی
توحید ذاتی سے مراد ذات حق تعالیٰ کی وحدانیت و یگانگت کی معرفت ہے۔ جو کوئی ذات حق تعالیٰ کے بارے میں پہلی معرفت حاصل کرتا ہے وہ اس کی بے نیازی ہے یعنی ایک ایسی ذات جو کسی جہت سے بھی کسی وجود کی محتاج نہیں ہے اور قرآن کی اصطلاح میں ”غنی“ ہے جب کہ ہر چیز اسی کی محتاج ہے اور اسی سے مدد لیتی ہے جب کہ وہ سب سے غنی ہے:
OTP entered does not match. Please enter the correct OTP!
Full Name and Password are required.
Please provide a valid Email address.
Please enter a valid email address.
Enter valid first name and last name with at least one space.
Mail sent successfully!
A validation e-mail has been sent to your e-mail address. You will need to follow the instructions in that message in order to gain full access to the site.
We use cookies to enhance your experience on our site. Essential cookies are necessary for the site to function. Analytics cookies help us understand how you use the site. Learn more
Cookie Preferences
Control how we use cookies on this site. Essential cookies cannot be disabled as they are required for the site to function.
Required
These cookies are necessary for the website to function and cannot be switched off.
These cookies allow us to count visits and traffic sources so we can measure and improve the performance of our site.