خدا واقعیت مطلق اور مبدائے ہستی

انسان ایک واقعیت پسند مخلوق ہے۔ انسان کا بچہ اپنی زندگی کی ابتداء ہی سے ماں کی چھاتی کو ایک حقیقت کے عنوان سے تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ پھر جب آہستہ آہستہ بچے کی جسمانی اورذہنی نشوونما ہونے لگتی ہے تو وہ اپنے اور دیگر اشیاء کے درمیان تمیز کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ وہ اشیاء کو اپنے سے باہر اور جدا سمجھتا ہے‘ اگرچہ اشیاء کے ساتھ اس کا رابطہ ذہنی خیالات کے ایک سلسلہ کے ذریعے قائم ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ ذہن سے ایک وسیلے اور رابطہ عمل کے طور پر استفادہ کرتا ہے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اشیاء کی حقیقت اس کے ذہن میں موجود افکار سے جدا ہے۔
اردو

حقیقت بین تصور کائنات

اسلام ایک حقیقت بین اور واقعیت پرست دین ہے۔ اسلام کا لفظ تسلیم کے معنی میں ہے اور اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسلمان ہونے کی پہلی شرط حقائق و واقعات کے سامنے تسلیم ہونا ہے‘ کسی بھی قسم کے عناد‘ ہٹ دھرمی‘ تعصب‘ اندھی تقلید“ جانب داری اور خود خواہی چونکہ حقیقت طلبی اور واقعیت پسندی کی روح کے خلاف ہے لہٰذا اسلام نے اس کی مذمت کی ہے اور اسے مسترد کر دیا ہے۔ اسلام کی نظر میں اگر انسان حقیقت جو اور حق تک پہنچنے کی راہ میں کوشش کرنے والا ہو اور بالفرض حقیقت تک نہ پہنچے تو مغرور ہے لیکن اگر کسی کی روح میں عناد اور ڈھٹائی کا مادہ پایا جاتا ہو اور بالفرض تقلید‘ وراثت اور ان جیسی دوسر
اردو

اسلامی تصور کائنات

اسلامی تصور کائنات دراصل الٰہی توحیدی تصور کائنات ہی ہے۔ اسلام میں توحید کو اپنی خالص اور پاک ترین شکل میں بیان کیا گیا ہے۔ اسلام کی نظر میں خدا کی کوئی مثل و نظیر نہیں ہے:
لَيْسَ كَمِثْلِہٖ شَيْءٌ
۝
۰
ۚ
(
سورہ شوریٰ‘ آیت
۱۱)
خدا نہ تو کسی چیز سے شباہت رکھتا ہے اور نہ ہی اسے کسی چیز سے تشبیہ دی جا سکتی ہے‘ خدا مطلقاً بے نیاز ہے‘ سب اسی کے محتاج ہیں جبکہ وہ سب سے بے نیاز ہے۔
اردو

ایک اچھے تصور کائنات کا معیار

ایک اچھے تصور کائنات کا معیار یہ ہے کہ اولاً تو وہ قابل اثبات و استدلال ہو۔ دوسرے الفاظ میں اسے عقل و منطق کی حمایت حاصل ہو‘ دوسرا یہ کہ حیات و زندگی کو بامقصد اور بامعنی بناتا ہو‘ اور زندگی کے بے کار‘ بے سود‘ فضول اور بے ہودہ ہونے کے تصور کو اور اس خیال کو کہ تمام راہیں نیستی اور عدم کی طرف جا پہنچتی ہیں‘ ذہنوں سے نکال دیتا ہو‘ تیسرا یہ کہ آرزو پرور‘ ولولہ انگیز اور پرامید بنانے والا ہو‘ چوتھا یہ کہ انسانی اور اجتماعی اہداف کو تقدس عطا کرنے کی قوت رکھتا ہو‘ پانچواں یہ کہ ذمہ دار اور جواب دہ بناتا ہو‘ کسی تصور کائنات کا منطقی ہونا‘ جہاں اس کے لئے عقلی حوالوں سے اور اذہان کے ل
اردو

مذہبی تصور کائنات

اگر کائنات اور عالم ہستی کے بارے میں ہر قسم کے کلی اظہار نظر کو فلسفی تصور کائنات سے تعبیر کیا جائے (البتہ اس چیز سے قطع نظر کہ اس کائنات کا مبداء قیاس‘ برہان یا استدلال ہے یا عالم غیب سے وحی کا تھا) تو مذہبی تصور کائنات کو ایک طرح کا فلسفی تصور کائنات سمجھنا چاہیے۔ مذہبی تصور کائنات اور فلسفی تصور کائنات کا دائرئہ کار ایک ہی ہے‘ جب کہ سائنسی تصور کائنات اس کے برخلاف ہے‘ لیکن اگر معرفت و شناخت کے مبداء پر نظر رکھی جائے تو مسلمہ طور پر مذہبی تصور کائنات اور فلسفی تصور کائنات دونوں کو مختلف انواع میں شمار کیا جائے گا۔
اردو

فلسفی تصور کائنات

ہرچند فلسفی تصور کائنات اپنے عمیق و معین ہونے کے اعتبار سے سائنسی تصور کائنات کی مانند نہیں ہے لیکن اس کے عوض بعض ایسے اصولوں پر استوار ہے جو اولاً تو بدیہی اور ذہن کے لئے ناقابل انکار ہیں اور برہانی و استدلالی روش کے تحت آگے بڑھتے ہیں اور ثانیاً عام اور ہمہ گیر ہیں (فلسفی اصطلاح میں ان کا تعلق موجود بماھو موجود کے احکام سے ہے) اسی لئے قدرتی طور پر ایک طرح کے یقین کے حامل ہیں اور جو ناپائیداری اور بے ثباتی سائنسی تصور کائنات میں دیکھنے کو ملتی ہے وہ فلسفی تصور کائنات میں نہیں ہے اسی طرح سائنسی تصور کائنات کی طرح محدودیت بھی نہیں رکھتے۔
اردو

سائنسی تصور کائنات

اب ہم دیکھتے ہیں کہ سائنس ہمیں کس طرح اور کس حد تک بصیرت اور آگاہی عطا کرتی ہے۔ سائنس کی بنیاد دو چیزوں پر استوار ہے: ایک مفروضہ‘ دوسرا تجربہ۔ ایک سائنس دان کے ذہن میں کسی چیز کی تفسیر یا اسے کشف کرنے کے لئے سب سے پہلے مفروضہ قائم ہوتا ہے‘ اس کے بعد مفروضے کا عمل کے میدان یا لیبارٹری میں تجربہ کیا جاتا ہے۔ اگر تجربہ اس کی تائید کر دے تو ایک سائنسی اصول کی حیثیت سے اسے قبول کر لیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ کوئی اس سے بھی زیادہ جامع مفروضہ سامنے آ جائے اور بہتر تجربات اس کی تائید کر دیں‘ وگرنہ اس سائنسی اصول کا اعتبار اپنی جگہ پر باقی رہے گا لیکن جونہی کوئی اس سے بھی زیادہ جامع مفرو
اردو

مختلف تصور ہائے کائنات

مجموعی طور پر کائنات کے بارے میں انسان کی تعبیر و تفسیر تین قسم کی ہو سکتی ہے یعنی اس کے تین مآخذ ہو سکتے ہیں: سائنس‘ فلسفہ اور دین۔ پس تصور کائنات بھی تین طرح کا ہے: سائنسی‘ فلسفی اور مذہبی تصور کائنات۔
(اس موضوع پر استاد شہید مطہری کی ایک کتاب ”شناخت در قرآن“ بھی فارسی میں منظرعام پر آ چکی ہے)
اردو

عالم محسوس اور معرفت کائنات

جہان بینی کے لفظ سے کہ جس میں لفظ ”بینی“ آیا ہے جو دیکھنے کے معنی میں آیا ہے‘ غلط معنی مراد لیتے ہوئے‘ جہان بینی کو معرفت کائنات کے معنی میں نہیں لینا چاہیے‘ معرفت کائنات کے معنی میں جہان بینی یا تصور کائنات معرفت کے موضوع سے مربوط ہے جو انسان کے امتیازات میں سے ہے جب کہ اس کے برخلاف احساس انسان اور دیگر حیوانات کے درمیان مشترک ہے۔ اس بناء پر معرفت کائنات انسان کی خصوصیات میں سے ہے اور اس کا تعلق اس کی فکری صلاحیت اور عقلی قوت سے ہے۔
اردو

تصور کائنات

بہرحال ہر فلسفہ حیات اور مسلک و مکتب کائنات کے بارے میں ایک طرح کی تفسیر و تحلیل اور رائے و بصیرت پر استوار ہوتا ہے۔ ایک مکتب‘ کائنات کے بارے میں جس طرح کے طرز فکر اور فہم و شعور سے آگاہ کرتا ہے اسے ہی اس مکتب کی فکری اساس اور بنیاد قرار دیا جاتا ہے اور اسے ہی فکری اساس و بنیاد کو تصور کائنات یا جہان بینی کہا جاتا ہے۔
اردو