توحید کے درجات اور مراتب

توحید کے کچھ درجات اور مراتب ہیں جیسا کہ توحید کے مقابلے میں شرک کے بھی درجات اور مراتب ہیں۔ جب تک کوئی توحید کے ان مراحل و مراتب کو طے نہیں کر لیتا وہ حقیقی معنوں میں موحد نہیں ہو سکتا۔
اردو

روح عبادت و پرستش

انسان اپنی قولی و عملی عبادت سے جس چیز کا اظہار کرتا ہے اسے ذیل میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے:
۱
۔
اللہ کے ان اوصاف و صفات سے ثنا و تعریف جو خود اس کے ساتھ مخصوص ہیں‘ یعنی ایسے اوصاف جن کا مفہوم کمال مطلق ہے‘ مثلاً علم مطلق‘ قدرت مطلق‘ ارادہ مطلق اور کمال مطلق‘ علم مطلق اور قدرت و ارادہ مطلق سے مراد یہ ہے کہ وہ کسی چیز کے ساتھ محدود اور مشروط نہیں ہے اور اسی چیز کا لازمی نتیجہ اللہ کی بے نیازی ہے۔
۲
۔
اردو

عبادت کی تعریف

عبادت کے معنی و مفہوم کو جاننے کے لئے اور اس کی صحیح تعریف تک پہنچنے کے لئے دو مقدموں کا تذکرہ ضروری ہے:
۱
۔ عبادت کا تعلق یا قول سے ہوتا ہے یا عمل سے:
اردو

وحدانیت خدا

خداوند تعالیٰ کا کوئی مثل و مانند اور شریک نہیں بلکہ بنیادی طور پر ایسا ہونا محال ہے کہ جس کے نتیجے میں ایک خدا کی جگہ دو یا دو سے زیادہ خدا ہو جائیں کیوں کہ کسی چیز کا دو‘ تین یا زیادہ ہونا محدود اور نسبی موجودات کے خواص میں سے ہے جب کہ لامحدود اور مطلق وجود کے لئے تعدد و کثرت کا کوئی مفہوم نہیں ہوتا مثلاًہماری ایک اولاد بھی ہو سکتی ہے اور دو سے زیادہ بھی‘ اسی طرح ہمارا ایک دوست یا دو اور دو سے زیادہ دوست بھی ہو سکتے ہیں‘ کیوں کہ اولاد یا دوست میں سے ہر ایک محدود مخلوق ہے اور ایک محدود مخلوق اپنے مقام پر مثل و نظیر رکھ سکتی ہے اور اسی کے نتیجے میں وہ تعدد اور کثرت کو قبول کر
اردو

صفات خدا

قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے کہ خداوند تعالیٰ تمام صفات کمال کے ساتھ متصف ہے:
لَہُ الْاَسْمَا
ۗ
ءُ الْحُسْنٰى
۝
۰
ۭ
(
سورئہ حشر‘ آیت
۲۴)
اس کے لئے بہترین نام اور اعلیٰ ترین اوصاف ہیں۔
وَلَہُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ
۝
۰
ۚ
اردو

۵۔ نسبیت

محسوس اور مشہود موجودات چاہے اپنی اصل ہستی کے اعتبار سے ہوں یا کمالات ہستی کے لحاظ سے‘ نسبی ہیں یعنی اگر مثال کے طور پر انہیں عظمت و بزرگی‘ قوت و توانائی‘ جمال و زیبائی یا قدامت حتیٰ ہستی اور ہونے سے تعبیر کیا جائے تب بھی یہ دوسری اشیاء کے ساتھ موازنہ کے اعتبار سے ہو گا‘ مثلاً اگر ہم کہتے ہیں سورج بڑا ہے‘ اس کی بزرگی تو‘ ہماری زمین اور ہمارے نظام شمسی کے ستاروں کی نسبت سے ہو گی۔ لیکن یہی سورج بعض دوسرے ستاروں کی نسبت چھوٹا ہو گا‘ اگر ہم کہتے ہیں کہ فلاں حیوان بہت طاقت ور ہے تو ایسا انسان کی قوت یا اس سے کمزور تر ہونے کے ساتھ موازنہ کرنے کے اعتبار سے ہو گا۔ اسی طرح کسی چیز کا ح
اردو

۴۔ محتاجی

جن موجودات کو ہم محسوس کرتے ہیں اور اپنے مشاہدے میں لاتے ہیں‘ وہ اپنی وابستگی اور مشروط ہونے کی بناء پر محتاج ہیں‘ محتاج ہونے سے کیا مراد ہے؟ یعنی یہ موجودات بے شمار شرائط سے وابستہ ہیں نیز ان میں سے ہر شرط اپنے مقام پر شرائط کے ایک سلسلے کے ساتھ وابستہ ہے۔ تمام وہ موجودات جو محسوس کی جاتی ہیں‘ ان میں سے کوئی ایک بھی اپنی ذات میں آزاد نہیں ہے یعنی اپنے غیر کا محتاج ہے‘ اور اپنے غیر کے معدوم ہو جانے کی صورت میں اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتا‘ پس تمام موجودات میں نیاز مندی‘ احتیاج اور فقر کا پہلو پایا جاتا ہے۔
اردو

۳۔ وابستگی

موجودات عالم کی ایک اور خصوصیت ان کی وابستگی اور محتاجی ہے۔ وجود کسی ایک یا کئی چیزوں کے ساتھ مشروط اور وابستہ ہوتا ہے اس طرح کہ اگر دوسری موجودات نہ ہوں تو یہ موجود بھی باقی نہیں رہ سکتا۔ جب بھی ہم ان موجودات کی اصل حقیقت پر غور کرتے ہیں تو انہیں کسی ایک شرط یا بہت سی شرائط کے ساتھ ملا ہوا دیکھتے ہیں لیکن ان محسوسات کے درمیان ہمیں ایسا کوئی موجود نظر نہیں آتا جو غیر مشروط اور مطلق (یعنی وہ دوسری موجودات کی قید سے اس طرح آزاد ہو کہ اس کے لئے ان کا ہونا یا نہ ہونا برابر ہو) طور پر موجود ہو سکتا ہو۔ تمام موجودات مشروط ہیں یعنی ان میں سے ہر ایک کسی دوسرے موجود کے ساتھ مشروط ہے
اردو

۲۔ تغیر و تبدل

تمام موجودات عالم متغیر اور ناپائیدار ہیں۔ محسوس دنیا میں کوئی بھی موجود ایک حالت میں باقی نہیں رہتا یا تو اس میں رشد و تکامل ہوتا ہے یا اسے فرسودگی و انحطاط کی منزل سے گزرنا پڑتا ہے۔ ایک محسوس اور مادی وجود اپنی پوری زندگی میں خود حقیقت و واقعیت کے اندر مسلسل تبادلے کے عمل سے گزرتا ہے‘ یا تو وہ کوئی چیز حاصل کرتا ہے یا کسی کو دیتا ہے اور یا پھر حاصل بھی کرتا ہے اور دیتا بھی ہے یعنی یا تو وہ دوسری اشیاء کی حقیقت سے کچھ لے کر اپنی حقیقت کا جزو قرار دے سکتا ہے یا پھر اپنی حقیقت سے کچھ کسی اور کے حوالے کر دتیا ہے یا پھر دونوں کام انجام دیتا ہے۔ بہرحال کوئی بھی مادی مخلوق ثابت اور
اردو

۱۔ محدودیت

چھوٹے ترین ذرے سے لے کر بڑے ترین ستارے تک جن موجودات کو ہم محسوس کرتے ہیں اور اپنے قاعدے میں لاتے ہیں وہ محدود ہیں‘ یعنی وہ ایک خاص زمان و مکان کے حامل ہوتے ہیں اور زمان و مکان کی اس خاص حد سے باہر نہیں ہوتے‘ بعض موجودات زیادہ بڑے مکان اور زیادہ طویل زمانے پر مشتمل ہوتے ہیں اور بعض نہایت چھوٹے زمان و مکان پر مشتمل ہوتے ہیں لیکن بہرحال سب ہی زمان و مکان کے ایک خاص حلقے میں محدود ہوتے ہیں۔
اردو