10۔ ذکر فضائل

906
۔ رسول اکرم جب بھی کوئی قوم ایک مقام پر جمع ہوکر محمد و آل محمد کے فضائل کا تذکرہ کرتی ہے تو آسمان سے ملائکہ نازل ہوکر اس گفتگو میں شامل ہوجاتے ہیں اور جب یہ لوگ منتشر ہوجاتے ہیں تب واپس جاتے ہیں اور دوسرے ملائکہ انھیں دیکھ کر کہتے ہیں کہ آج تو تمھارے بدن سے ایسی خوشبو آرہی ہے جو ہم نے کبھی نہیں دیکھی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم ایک ایسی قوم کے پاس تھے جو محمد و آل محمد کے فضائل کا ذکر کررہی تھی اور ان لوگوں نے ہمیں یہ خوشبو عنایت کی ہے۔
اردو

11۔ ذکر مصائب

912
۔ احمد بن یحییٰ الاودی نے اپنے اسناد کے ساتھ منذر کے واسطہ سے امام حسین (ع) سے نقل کیا ہے کہ جس بندہ کی آنکھ سے ہمارے غم میں ایک قطرہٴ اشک بھی گرجاتاہے پروردگارا اسے جنت میں عظیم منزل عنایت فرماتاہے” …
اور اس کے بعد امام حسین (ع) کو خواب میں دیکھ کر عرض کیا کہ مجھ سے مخول بن ابراہیم نے ربیع بن منذر نے اپنے والد کے حوالہ سے آپ کا یہ قول نقل کیا ہے تو کیا یہ صحیح ہے؟ تو فرمایا کہ بیشک صحیح ہے۔( امالی مفید ص
340
/
6
اردو

فصل اول: فضائل محبّت اہلبیت (ع)

اردو

1۔ اساس الاسلام

922
۔رسول
اکرم!
اسلام کی اساس میری اور میرے اہلبیت(ع) کی محبت ہے۔( کنز العمال
12
ص
105
/
34206
، درمنثور ، ص
350
923
۔ رسول
اکرم!
ہر شے کی ایک بنیاد ہے اور اسلام کی بنیاد ہم اہلبیت (ع) کی محبت ہے۔( محاسن
اردو

2۔ محبت اہلبیت (ع) محبت خدا ہے

928
۔ href="https://nasimfun.com/imam-ali-biography/">امام علی (ع) (ع
)!
اردو

3۔ محبت اہلبیت (ع) محبت رسول اکرم ہے

931
۔ رسول
اکرم!
اللہ سے محبت کرو کہ تمھیں اپنی نعمتوں سے فیضیاب فرمایاہے، اس کے بعد اس کی محبت کی بناپر ہم سے محبت کرو اور ہماری محبت کی بناپر ہمارے اہلبیت (ع) سے محبت کرو ۔( سنن ترمذی
5
ص
622
/
3789
، تاریخ بغداد
4
ص
160
، مستدرک حاکم
3
اردو

4۔ محبت اہلبیت تحفہ الہی ہے

934
۔ رسول
اکرم!
اردو

5۔ محبت اہلبیت (ع) افضل عبادت ہے

937
۔ رسول
اکرم!
آل محمد سے ایک دن کی محبت ایک سال کی عبادت سے بہتر ہے اور اس پر مرنے والا جنت میں داخل ہوجاتاہے۔( الفردوس
2
ص
142
/
2721
، ینابیع المودة
3
ص
191
روایت ابن مسعود)۔
938
۔ رسول
اردو

6۔ محبت اہلبیت (ع) باقیات صالحات میں ہے

942
۔ محمد بن اسماعیل بن عبدالرحمان
الجعفی!
میں اور میرے چچا حصین بن عبدالرحمان امام صادق (ع) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے انھیں قریب بلاکر بٹھایا اور فرمایا کہ یہ کس کے فرزند ہیں ؟ انھوں نے عرض کی کہ میرے بھائی اسماعیل کے فرزند ہیں!۔
فرمایا خدا اسماعیل پر رحمت نازل کرے اور ان کے گناہوں کو معاف فرمائے تم نے انھیں کس عالم میں چھوڑا
ہے، انھوں نے عرض کی کہ بہترین حال میں کہ خدا نے ہمیں آپ کی محبت عنایت فرمائی ہے۔
اردو

فصل دوم: خصائص محبت اہلبیت (ع)

اردو