9۔ امن روز قیامت

1025
۔ رسول
اکرم!
جو ہم اہلبیت (ع) سے محبت کرے گا پروردگار اسے روز قیامت مامون و محفوظ اٹھائے گا۔( عیون اخبار الرضا (ع)
2
ص
58
/
220
از ابومحمد الحسن بن عبداللہ بن محمد بن العباس الرازی التمیمی عن الرضا (ع) )۔
1026
۔ رسول
اکرم!
اردو

10۔ ثباتِ قدم بر صراط

1029
۔ رسول
اکرم!
تم میں سب سے زیادہ صراط پر ثبات قدم والا وہ ہوگا جو سب سے زیادہ مجھے سے اور میرے اہلبیت(ع) سے محبت کرنے والا ہوگا۔( جامع الاحادیث قمی ص
231
1030
۔ رسول
اکرم!
تم میں سب سے زیادہ صراط پر ثابت قدم سب سے زیادہ میرے اہلبیت (ع) سے محبت کرنے والا ہوگا۔( فضائل الشیعہ
48
/
3
اردو

11 ۔ نجات از جہنم

1033
۔ رسول
اکرم!
روز قیامت پروردگار فاطمہ (ع) کو آواز دے گا کہ جو چاہو مانگ لو میں عطا کردوں گا ! تو فاطمہ (ع) کہیں گی کہ خدایا تجھ ہی سے ساری امیدیں وابستہ ہیں اور تو امیدوں سے بھی بالاتر ہے، میرا سوال صرف یہ ہے کہ میرے اور میری عترت کے محبون پر جہنم کا عذاب نہ کرنا ؟ تو آواز آئے گی ، فاطمہ (ع) ! میری عزّت و جلال اور بلندی کی قسم، میں نے آسمان و زمین کو پیدا کرنے سے دو ہزار سال پہلے سے یہ عہد کررکھاہے کہ تیرے اور تیری اولاد کے دوستوں پر جہنم کا عذاب نہیں کروں گا۔( تاویل الآیات الظاہرہ روایت ابوذر)۔
اردو

12۔ اہلبیت (ع) کے ساتھ حشر و نشر

1036
۔ امام علی (ع)! رسول اکرم نے حسن (ع) و حسین (ع) کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا کہ جو مجھ سے ، ان دونوں سے اور ان کے والدین سے اور ان کے والدین سے محبت کرے گا وہ روز قیامت میرے ساتھ درجہ میں ہوگا۔( سنن ترمذی
5
ص
641
/
37733
، مسند احمد بن حنبل
1
ص
168
/
576
اردو

13۔ جنّت

1051
۔
حذیفہ!
میں نے رسول اکرم کودیکھا کہ امام حسین (ع) کا ہاتھ پکڑ کر فرمارہے ہیں کہ ایھا الناس۔ اس کا جد یوسف بن یعقوب کے جد سے افضل ہے اور یاد رکھو کہ حسین (ع) کی منزل جنّت ہے، اس کے باپ کی منزل جنّت ہے، اس کی ماں کی جگہ جنّت ہے۔اس کا بھائی جنتی ہے اور اس کے تمام دوست اور ان کے چاہنے والے سب جنتی ہیں۔( مقتل الحسین خوارزمی
1
ص
67
1052
اردو

4۔ خیر دنیا و آخرت

1060
۔ رسول اکرم ۔ جو خدا پر توکل کرنا چاہتاہے اسے چاہئے کہ میرے اہلبیت (ع) سے محبت کرے اور جو عذاب قبر سے نجات چاہتاہے اس کا بھی فرض ہے کہ میرے اہلبیت (ع) سے محبت کرے اور جو حکمت چاہتاہے اواس کا بھی فرض ہے کہ اہلبیت(ع) سے محبت کرے اور جو جنت میں بلاحساب داخلہ چاہتاہے اسے بھی چاہئے کہ اہلبیت (ع) سے محبت کرے کہ خدا کی قسم جو بھی ان سے محبت کرے گا اسے دنیا و آخرت کا فائدہ حاصل ہوگا ۔( مقتل الحسین خوارزمی
1
ص
59
مائتہ منقبہ ص
106
اردو

فصل ہفتم: جامع آثار محبّت

1061
۔ رسول
اکرم!
پروردگار جس شخص کو ہم اہلبیت (ع) کے ائمہ کی محبت عنایت کردے گویا کہ اسے دنیا و آخرت کا سارا خیر حاصل ہوگا لہذا کوئی شخص اپنے جنتی ہونے میں شک نہ کرے کہ ہم اہلبیت (ع) کی محبت میں بیس خصوصیات پائی جاتی ہیں، دس دنیا میں اور دس آخرت میں ۔
اردو

فصل اول: بغض اہلبیت (ع) پر تنبیہ

1065
۔ رسول
اکرم!
میرے بعد ائمہ بارہ ہوں گے جن میں سے نوصلب حسین (ع) سے ہوں گے اور ان کا نواں قائم ہوگا، خوشا بحال ان کے دوستوں کے لئے اور ویل ان کے دشمنوں کے لئے۔( کفایة الاثر ص
30
روایت ابوسعید خدری)۔
1066
۔ رسول
اکرم!
اردو

فصل دوم: بغض اہلبیت (ع) کے اثرات

اردو

1۔ پروردگار کی ناراضگی

1074
۔ رسول
اکرم!
شب معراج میں آسمان پر گیا تو میں نے دیکھا کہ در جنت پر لکھا ہے۔ لا الہ الا اللہ ۔ محمد رسول اللہ ، علی حبیب اللہ الحسن والحسین (ع) صفوة اللہ ، فاطمة خیرة اللہ اور ان کے دشمنوں پر لعنة
اللہ ۔( تاریخ بغداد
1
ص
259
، تہذیب دمشق
4
ص
322
، مناقب خوارزمی ص
اردو