1۔ علامت ولادتِ صحیح

943
۔رسول اکرم ۔
لوگو!
اپنی اولاد کا امتحان محبت علی (ع) کے ذریعہ لو کہ علی (ع) کسی گمراہی کی دعوت نہیں دے سکتے ہیں اور کسی ہدایت سے دور نہیں کرسکتے ہیں جو اولاد ان سے محبت کرے وہ تمھاری ہے ورنہ پھر تمھاری نہیں ہے۔( تاریخ دمشق حالات امام علی (ع)
2
ص
225
/
730
944
۔ امام علی (ع
)!
اردو

2۔ شرط توحید

954
۔ جابر بن عبداللہ
انصاری!
ایک اعرابی رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوکر کہنے لگا کہ حضور کیا جنت کی کوئی قیمت ہے؟ فرمایا، بیشک اس نے کہا وہ کیا ہے ؟ فرمایا لا الہ الا اللہ جسے بندہ مومن خلوص دل کے ساتھ زبان پر جاری کرے۔
اس نے کہا کہ خلوص دل کا مطلب کیا ہے؟ فرمایا میرے احکام پر عمل اور میرے اہلبیت (ع) کی محبت ۔
اس نے عرض کیا اہلبیت (ع) کی محبت بھی کلمہ توحید کا کوئی حق ہے؟ فرمایا یہ سب سے عظیم ترین حق ہے۔( امالی طوسی (ر) ص
583
اردو

3۔ علامت ایمان

957
۔ رسول
اکرم!
مجھ سے میرے پروردگار نے عہد کیا ہے کہ میرے اہلبیت (ع) کی محبت کے بغیر کسی بندہ کے ایمان کو قبول نہیں کرے گا۔ ( احقاق الحق
9
ص
454
نقل از مناقب مرتضویہ و خلاصة الاخبار)۔
958
۔ رسول
اکرم!
اردو

4۔ قیامت کا سب سے پہلا سوال

970
۔ رسول
اکرم!
قیامت کے دن سب سے پہلے ہم اہلبیت (ع) کی محبت کے بارے میں سوال کیا جائے گا ۔( عیون اخبار الرضا (ع)
2
ص
62
/
258
روایت حسن بن عبداللہ بن محمد بن العباس الرازی التمیمی)۔
971
اردو

فصل سوم: تربیت اولاد بر محبت اہلبیت (ع)

974
۔ رسول
اکرم!
اپنی اولاد کی تربیت کرو میری محبت ، میری اہلبیت (ع) کی محبّت اور قرآن کی تعلیم پر ۔(احقاق الحق
18
/
498
975
۔ رسول
اکرم!
اردو

فصل چہارم: اہلبیت (ع) کو محبوب خلائق بنانے کی تاکید

979
۔ امام صادق (ع
)!
اللہ اس بندہ پر رحم کرے جو ہمیں لوگوں میں محبوب بنائے اور مبغوض نہ بنائے۔( کافی
8
ص
229
/
293
، تنبیہ الخواطر
2
ص
152
روایت ابوبصیر، مشکٰوة الانوار ص
180
اردو

فصل پنجم: علامات محبت اہلبیت (ع)

اردو

1۔ کوشش عمل

982
۔ امام علی (ع
)!
میں رسول اکرم کے ساتھ ہوں گا اور میرے فرزند میرے ساتھ حوض کوثر پر ہوں گے لہذا جسے میرے ساتھ رہناہے اسے میری بات کو اختیار کرنا ہوگا اور میرے عمل کے مطابق عمل کرنا ہوگا۔( خصال ص
624
/
10
روایت ابوبصیر و محمد بن مسلم ، تفسیر فرات ص
367
/
499
اردو

2۔ محبان اہلبیت (ع) سے محبت

988
۔ حنش بن
المعتمر!
میں امیر المومنین علی (ع) بن ابی طالب (ع) کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے سلام کرکے مزاج دریافت کیا تو فرمایا کہ میری شام اس عالم میں ہوئی ہے کہ میں اپنے دوستوں کا دوست اور دشمنوں کا دشمن ہوں اور ہمارا دوست اس رحمت خدا پر مطمئن ہے جس کا انتظار کررہا تھا اور ہمارا دشمن اپنی تعمیر جہنم کے کنارہ کررہاہے جس کا انجام جہنم میں گرجاناہے اور گویا کہ اہل رحمت کیلئے رحمت کے دروازے کھلے ہوئے ہیں اور انھیں رحمت مبارک ہے اور اہل جہنم کیلئے جہنم کی ہلاکت حاضر ہے۔
اردو

3۔ دشمنان اہلبیت (ع) سے دشمنی

991
۔ صالح بن میثم
التمار!
میں نے حضرت میثم کی کتاب میں دیکھا ہے کہ ہم لوگوں نے ایک شام امیر المومنین (ع) کی خدمت میں حاضری دی تو آپ نے فرمایا کہ جس مومن کے دل کا بھی خدا نے ایمان کے لئے امتحان لے لیا وہ ہماری مودت کو اپنے دل میں ضرور پائے گا اور جس پر خدا کی ناراضگی ثبت ہوگئی ہے وہ ہماری دشمنی ضرور رکھے گا ، ہم اس بات پر خوش ہیں کہ مومن ہم سے دوستی رکھتاہے اور دشمن کی دشمنی کو ہم پہچانتے ہیں۔
اردو